طناز

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نازوانداز  نپٹ دلربائی کے طناز سوں لٹکتی اپس میں اپیں ناز سوں      ( ١٦٢٥ء، سیف الملوک و بدیع الجمال، ١١٥ ) ١ - رفتار میں ناز و ادا دکھانے والا، اٹھلا کر چلنے والا، عشوہ گر، شوخ، بیباک، (کنایۃً) معشوق۔  بس شرم کر اے ملکہ طناز باز آ! دیتا ہے زیب جس کو ہر انداز ہر ادا      ( ١٩٨٤ء، قہر عشق، ٢٥ ) ٢ - رمزو کنایہ میں بات کہنے والا، طنز کرنے والا۔  پڑ گئے سوراخ دل میں گفتگوے یار سے بے کنایہ کے نہیں اک قول اوس طناز کا    ( ١٨٤٦ء، کلیاتِ آتش، ٥٦ ) ٣ - طنز نگار۔ "اکبر الٰہ آبادی ایک شاعر طناز اور مزاح نگار کی حیثیت میں ابھرے۔"    ( ١٩٨٣ء، اردو ادب کی تحریکیں، ٣٥٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت اور گاہے اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٢٥ء کو "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - طنز نگار۔ "اکبر الٰہ آبادی ایک شاعر طناز اور مزاح نگار کی حیثیت میں ابھرے۔"    ( ١٩٨٣ء، اردو ادب کی تحریکیں، ٣٥٩ )

اصل لفظ: طنز
جنس: مذکر