طنز
معنی
١ - ہنسی اڑانا، ٹھٹھا، چھیڑچھاڑ، تمسخر؛ رمز کے ساتھ بات کہنا۔ "میں نے کیا کیا بول سنے اور اچھے اچھے دوستوں نے بھی طنز کیے، پھر بھی میں نے پاکستان کو پاکستان کی آنکھیں دینی چاہیں۔" ( ١٩٧٣ء، لاحاصل، ١٢٩ ) ٢ - طعنہ، پھبتی۔ "گالیاں سن کر بھی بھڑکتے نہ تھے بلکہ طنز کا جواب دلجوئی سے دیتے تھے۔" ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٦٥ ) ٣ - [ تنقید ] زندگی کے مضحک، قابل گرفت اور تنفر انگیز پہلوؤں پر مخالفانہ اور ظریفانہ تنقید۔ (کشاف تنقیدی اصطلاحات، 120) "اردو کی مختلف اصناف شعری میں جابجا طنز و مزاح کے نشانات شروع ہی سے ملتے ہیں۔" ( ١٩٨٨ء، اردو کی ظریفانہ شاعری اور اس کے نمائندے، ٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہنسی اڑانا، ٹھٹھا، چھیڑچھاڑ، تمسخر؛ رمز کے ساتھ بات کہنا۔ "میں نے کیا کیا بول سنے اور اچھے اچھے دوستوں نے بھی طنز کیے، پھر بھی میں نے پاکستان کو پاکستان کی آنکھیں دینی چاہیں۔" ( ١٩٧٣ء، لاحاصل، ١٢٩ ) ٢ - طعنہ، پھبتی۔ "گالیاں سن کر بھی بھڑکتے نہ تھے بلکہ طنز کا جواب دلجوئی سے دیتے تھے۔" ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٦٥ ) ٣ - [ تنقید ] زندگی کے مضحک، قابل گرفت اور تنفر انگیز پہلوؤں پر مخالفانہ اور ظریفانہ تنقید۔ (کشاف تنقیدی اصطلاحات، 120) "اردو کی مختلف اصناف شعری میں جابجا طنز و مزاح کے نشانات شروع ہی سے ملتے ہیں۔" ( ١٩٨٨ء، اردو کی ظریفانہ شاعری اور اس کے نمائندے، ٥ )