طوطا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک پرندہ جس کے پر عموماً سبز، چونچ سرخ اور بعض کے گلے میں رنگین طوق ہوتا ہے۔ "شہزادے نے ویسے ہی تین طوطے مانگے ہیں۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ٢٠ ) ٢ - توڑے دار بندوق کا ایک آہنی آلہ جس میں فتیلہ رکھ کر باروت کو آگ دیتے ہیں، بندوق کا گھوڑا۔  کلمہ پڑھیں کے دونوں مرے خانہ جنگ کا زاغِ کماں ہو اس میں کہ طوطہ تفنگ کا      ( ١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ٥٤ ) ٣ - [ نان بائی ]  تنور میں سے روٹی نکالنے کی دو سیخوں میں سے دوسری سیخ جس کی نوک مڑی ہوئی ہوتی ہے۔ "لکھنو . کے نان بائی تنور میں سے روٹی نکالنے کے دونوں آلوں کو جو ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں "جوڑی" کہتے ہیں، وہ سیخ جس کا ایک سرا چپٹا (کھرپی کی شکل) ہوتا ہے "ارا" کہلاتی ہے اور دوسری سیخ جس کی نوک مڑی ہوئی ہوتی ہے "طوطا" (یعنی توتا) کے نام سے پکاری جاتی ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، اردونامہ، کراچی، ٥٨:٤٤ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'توتہ' سے مؤرِد 'توتا' کا متبادل املاء 'طوطا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک پرندہ جس کے پر عموماً سبز، چونچ سرخ اور بعض کے گلے میں رنگین طوق ہوتا ہے۔ "شہزادے نے ویسے ہی تین طوطے مانگے ہیں۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ٢٠ ) ٣ - [ نان بائی ]  تنور میں سے روٹی نکالنے کی دو سیخوں میں سے دوسری سیخ جس کی نوک مڑی ہوئی ہوتی ہے۔ "لکھنو . کے نان بائی تنور میں سے روٹی نکالنے کے دونوں آلوں کو جو ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں "جوڑی" کہتے ہیں، وہ سیخ جس کا ایک سرا چپٹا (کھرپی کی شکل) ہوتا ہے "ارا" کہلاتی ہے اور دوسری سیخ جس کی نوک مڑی ہوئی ہوتی ہے "طوطا" (یعنی توتا) کے نام سے پکاری جاتی ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، اردونامہ، کراچی، ٥٨:٤٤ )

اصل لفظ: توتا
جنس: مذکر