طوفان

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - نہایت، بے حد۔  قاتل کے لامقابل آنکھوں نے کر دیا دل اس طفل اشک نے بھی طوفان دلاوری کی      ( ١٨٠٩ء، جرأت، دیوان، ٤٩٩ ) ٢ - کامل، ماہر؛ آفت کا پرکالہ۔  افترا کرنے میں طوفان ہے وہ شوخ ظریف تو تیا تازہ کوئی اور نہ مجھ پر باندھے      ( ١٨٤٣ء، دیوان رند، ٢٨٩:٢ ) ١ - سیلاب، طغیانی۔  سلامت جو طوفان سے آگئی ہے وہ کشتی کنارے سے ٹکرا گئی ہے      ( ١٩٨٧ء، ضمیریات، ٢٢ ) ٢ - بادو باراں کی زیادتی، آندھی یا سنت کی بارش۔ "طوفان بہت شدید ہے اور بستی یہاں سے بہت دور۔"      ( ١٩٦٦ء، دلہن کی سیج، ١٤٥ ) ٣ - جوش، زیادتی (کسی چیز یا کیفیت کی)؛ بوچھار (گالیوں اور سوالوں وغیرہ کی)۔  طوفان تنک سمن کی بو میں سمدور یک آنا کے انجو میں      ( ١٧٠٠ء، من لگن، ١ ) ٤ - پڑبونگ، ہنگامہ، شور، شورش۔ "حضرت عثمان کے عہد کا سیاسی طوفان، ان کی شہادت . جمل کی لڑائی یہ شب چند نوخیز قریشی رئیس زادوں کی بیجا امنگوں کے نتائج تھے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٦٤٨:٣ ) ٥ - تہمت، بہتان۔ "اس کا بدلہ یہ کہ اتنا بڑا طوفان، عظیم بہتان۔"    ( ١٩١٧ء، طوفان حیات، ٣٧ ) ٦ - جھوٹ، غلط۔  آبرو کہتے ہیں رونے میں اثر درد کے رونا تیرا مگر سچا نہیں طوفان ہے    ( ١٧١٨ء، دیوان آبرو، ٧٩ ) ٨ - دھوم، شہرت، کہرام۔  طوفان ہوا ہے جب سوں ترے مکھ کی آب کا بازار تب سوں سرد ہوا آفتاب کا      ( ١٩٦٧ء، اردو، کراچی، جنوری، ٤٨ ) ٩ - اندھیر، ظلم۔  یوں مان لے ایسا کوئی نادان نہیں ہے تم غیر سے ملتے ہو یہ طوفان نہیں ہے      ( ١٨٥١ء، مومن (شعلۂ جوالہ، ٧٧٢:٢) ) ١٠ - [ کنایۃ ]  آفت، قہر، بڑی مصیبت۔  زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے      ( ١٧٨٤ء، درد، دیوان، ٨٧ ) ١١ - اندھیرا گھپ، تاریکی سخت؛ مرگ عام وبا؛ کارِ عظیم، بڑا کام؛ ناگہانی موت؛ قتل۔ (ماخوذ: مہذب اللغات؛ جامع اللغات)

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم اور گا ہے بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بادو باراں کی زیادتی، آندھی یا سنت کی بارش۔ "طوفان بہت شدید ہے اور بستی یہاں سے بہت دور۔"      ( ١٩٦٦ء، دلہن کی سیج، ١٤٥ ) ٤ - پڑبونگ، ہنگامہ، شور، شورش۔ "حضرت عثمان کے عہد کا سیاسی طوفان، ان کی شہادت . جمل کی لڑائی یہ شب چند نوخیز قریشی رئیس زادوں کی بیجا امنگوں کے نتائج تھے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٦٤٨:٣ ) ٥ - تہمت، بہتان۔ "اس کا بدلہ یہ کہ اتنا بڑا طوفان، عظیم بہتان۔"    ( ١٩١٧ء، طوفان حیات، ٣٧ )