طیارہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - اڑنے والا جہاز، ہوائی جہاز، ایروپلین۔ "ایک مرتبہ جب نازی بم باری طیاروں نے لندن پر اندھا دھند بم باری کی تو ایک گولہ بی بی سی کی عمارت پر بھی پڑا۔"      ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ١٠١ ) ٢ - ایک فرقہ جس کے امام عبداللہ بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفر طیار بن ابی طالب تھے۔ (فرقے اور مسالک، 138)

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'طیار' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'طیّارہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩٣٦ء کو "جگ بیتی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اڑنے والا جہاز، ہوائی جہاز، ایروپلین۔ "ایک مرتبہ جب نازی بم باری طیاروں نے لندن پر اندھا دھند بم باری کی تو ایک گولہ بی بی سی کی عمارت پر بھی پڑا۔"      ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ١٠١ )

اصل لفظ: طَیّارہ
جنس: مذکر