ظریف

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ہنسنے ہنسانے والا، خوش طبع، بذلہ سنج، لطیفہ گو۔ "ایک ظریف محدث نے خوب کہا ہے کہ اگر واقدی سچا ہے تو دنیا میں کوئی اس کا ثانی نہیں۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٢:٢ ) ٢ - ذہین، طباع، دانش مند، عقل مند، سمجھدار۔  جسماً نازک، نرم نحیف قسماً قولاً، بڑا ظریف      ( ١٩٨٣ء، ضمیر یات، ٦٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٤٦ء کو "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہنسنے ہنسانے والا، خوش طبع، بذلہ سنج، لطیفہ گو۔ "ایک ظریف محدث نے خوب کہا ہے کہ اگر واقدی سچا ہے تو دنیا میں کوئی اس کا ثانی نہیں۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٢:٢ )

اصل لفظ: ظرف