ظفر
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - کامیابی، فتح، متحمندی، دشمنوں پر غلبہ۔ "اس کا مقصد صرف فوج کا لڑانا اور فتح و ظفر حاصل کرنا نہ تھا۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٨:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کامیابی، فتح، متحمندی، دشمنوں پر غلبہ۔ "اس کا مقصد صرف فوج کا لڑانا اور فتح و ظفر حاصل کرنا نہ تھا۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٨:٢ )
اصل لفظ: ظفر
جنس: مؤنث