ظلمی
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - بہت زیادہ ظلم کرنے والا، بڑا ظالم، ناانصاف۔ "عبرت ہے ظلمی انسانوں کے لیے۔" ( ١٩١١ء، روزنامچۂ باتصویر، ١٦١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'ظلم' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'ظلمی' بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے ١٨٩٠ء کو "طلسم ہو شربا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بہت زیادہ ظلم کرنے والا، بڑا ظالم، ناانصاف۔ "عبرت ہے ظلمی انسانوں کے لیے۔" ( ١٩١١ء، روزنامچۂ باتصویر، ١٦١ )
اصل لفظ: ظُلْم