عاجز

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بے بس، قاصر، جو کوئی کام کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ "میں نے اپنے آپ کو کہیں اتنا عاجز نہیں پایا۔"      ( ١٩٨٥ء، درپن درپن، ١٩ ) ٢ - تنگ، پریشان "عاجز بی بی نے بچے کو تعویذ کی گلے سے لگایا اور اس گانو سے سرک گئی۔"      ( ١٨٨٧ء، سخندانِ فارس، ١٠٥:٢ ) ٣ - مغلوب، پسپا، شکست خوردہ۔ "اس میں میرزا نوشہ کو عاجز ہونا پڑا تھا۔"      ( ١٩٠٣ء، چراغ دہلی، ٣٤ ) ٤ - خاکسار، مسکین، غریب "اس عاجز کا ملک کے مستند و معتبر علما اور اہلِ نظر سے یہ التماس ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، فاران کراچی، جولائی، ٧ ) ٦ - کمزور، ناتواں، سست۔ "وقت نے ان کو عاجز اور ضرورت نے ان کو لاچار اور زمانے ان کو مجبور کیا۔"      ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ١٤٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار (اردو ادب)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے بس، قاصر، جو کوئی کام کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ "میں نے اپنے آپ کو کہیں اتنا عاجز نہیں پایا۔"      ( ١٩٨٥ء، درپن درپن، ١٩ ) ٢ - تنگ، پریشان "عاجز بی بی نے بچے کو تعویذ کی گلے سے لگایا اور اس گانو سے سرک گئی۔"      ( ١٨٨٧ء، سخندانِ فارس، ١٠٥:٢ ) ٣ - مغلوب، پسپا، شکست خوردہ۔ "اس میں میرزا نوشہ کو عاجز ہونا پڑا تھا۔"      ( ١٩٠٣ء، چراغ دہلی، ٣٤ ) ٤ - خاکسار، مسکین، غریب "اس عاجز کا ملک کے مستند و معتبر علما اور اہلِ نظر سے یہ التماس ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، فاران کراچی، جولائی، ٧ ) ٦ - کمزور، ناتواں، سست۔ "وقت نے ان کو عاجز اور ضرورت نے ان کو لاچار اور زمانے ان کو مجبور کیا۔"      ( ١٩١٩ء، جوہر قدامت، ١٤٩ )

اصل لفظ: عجز