عاجزی
معنی
١ - خاکساری، عجز، انکسار۔ "اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں عاجزی سے دعائیں مانگتے رہو۔" ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٧٥ ) ٢ - منت و سماجت، خوشامد۔ "وہ میری بات سن کر بڑی عاجزی سے ہاتھ جوڑ کر کہنا۔" ( ١٩٨٩ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٤٤ ) ٣ - مجبوری، بے بسی، ناچاری۔ "ہمارے لڑکپن اور یتیمی پر، عاجزی اور غریبی پر . رحم کر۔" ( ١٧٣٢ء، کربل کتھا، ١٢٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'عاجز' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے 'عاجزی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستمعل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خاکساری، عجز، انکسار۔ "اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں عاجزی سے دعائیں مانگتے رہو۔" ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٧٥ ) ٢ - منت و سماجت، خوشامد۔ "وہ میری بات سن کر بڑی عاجزی سے ہاتھ جوڑ کر کہنا۔" ( ١٩٨٩ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٤٤ ) ٣ - مجبوری، بے بسی، ناچاری۔ "ہمارے لڑکپن اور یتیمی پر، عاجزی اور غریبی پر . رحم کر۔" ( ١٧٣٢ء، کربل کتھا، ١٢٨ )