عادت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - خصلت، خُو (جو غیر ارادی ہو)۔ "کچھ تو ضعیف العمری کا تقاضا ہے، کچھ ریٹائرڈ زندگی نے آرام پسندی کی عادت بڑھا دی ہے۔"      ( ١٩٨٧، شہاب نامہ، ١٥ ) ٢ - رسم، ریت، رواج، قاعدہ، قانون۔ "عادت یہ ہے کہ تقدیر ازلی سے متعلق ہو اور حضرت علمی میں واقع اور وجود خارجی میں اللہ کے طریقہ معینہ پر جاری۔"      ( ١٨٨٧ء، مقدمۂ خصوص الحکم، ٨٩ ) ٣ - طلب، لت، ہوکا۔ "ایک خاص دو کے لیے اس طرح ہو گا لگ جانا عادت کہلاتا ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، علم الادویہ (ترجمہ)، ١٠٨:١ ) ٤ - طبیعت، مزاج، سرشت۔ "اس کے مزاج اور عادت اور صحبت سے یہ بھی جانتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٨٥:١ ) ٦ - طور، طریقہ، انداز، چال چلن۔ "عادت سے میری مراد کردار کا ہر ایسا طریقہ ہے جس کو ایک عام اصول کے تحت لایا جاسکتا ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، علم اخلاق، ٩٩ ) ٧ - شوق، ارمان، آرزو۔  سینے میں ایک دم بھی ٹھہرتا نہیں دل عادت اس آئینے کو جلائے وطن کی ہے      ( ١٩٠٠ء، امیر مینائی (مہذب اللغات) )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "شرحِ تمہیداتِ ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خصلت، خُو (جو غیر ارادی ہو)۔ "کچھ تو ضعیف العمری کا تقاضا ہے، کچھ ریٹائرڈ زندگی نے آرام پسندی کی عادت بڑھا دی ہے۔"      ( ١٩٨٧، شہاب نامہ، ١٥ ) ٢ - رسم، ریت، رواج، قاعدہ، قانون۔ "عادت یہ ہے کہ تقدیر ازلی سے متعلق ہو اور حضرت علمی میں واقع اور وجود خارجی میں اللہ کے طریقہ معینہ پر جاری۔"      ( ١٨٨٧ء، مقدمۂ خصوص الحکم، ٨٩ ) ٣ - طلب، لت، ہوکا۔ "ایک خاص دو کے لیے اس طرح ہو گا لگ جانا عادت کہلاتا ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، علم الادویہ (ترجمہ)، ١٠٨:١ ) ٤ - طبیعت، مزاج، سرشت۔ "اس کے مزاج اور عادت اور صحبت سے یہ بھی جانتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٨٥:١ ) ٦ - طور، طریقہ، انداز، چال چلن۔ "عادت سے میری مراد کردار کا ہر ایسا طریقہ ہے جس کو ایک عام اصول کے تحت لایا جاسکتا ہے۔"      ( ١٩٣٥ء، علم اخلاق، ٩٩ )

اصل لفظ: عاد
جنس: مؤنث