عار

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - تنگ، شرم، جھجک۔ "غرض مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اثر نے نئی شاعری اور نظری شاعری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔"      ( ١٩٨٣ء، حصار انا، ١٦ ) ٢ - عیب، ذلت، بدنامی۔ "سودا سلف خریدنے میں عار محسوس ہوتی تھی۔"      ( ١٩٨١ء، آسماں کیسے کیسے، ٢٣٧ ) ٣ - پرہیز، بیزاری، بے تعلقی۔ "شلوار اور غرارے سے عار ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، مضامین فلک پیما، ٩٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تنگ، شرم، جھجک۔ "غرض مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اثر نے نئی شاعری اور نظری شاعری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔"      ( ١٩٨٣ء، حصار انا، ١٦ ) ٢ - عیب، ذلت، بدنامی۔ "سودا سلف خریدنے میں عار محسوس ہوتی تھی۔"      ( ١٩٨١ء، آسماں کیسے کیسے، ٢٣٧ ) ٣ - پرہیز، بیزاری، بے تعلقی۔ "شلوار اور غرارے سے عار ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، مضامین فلک پیما، ٩٧ )

اصل لفظ: عار