عارضی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - غیر مستقل، چند روزہ، وقتی، اتفاقی۔ "مجھے مہمان جان کر میری رجعت پسندی سے عارضی سمجھوتہ کر لیا تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ١٣ ) ٢ - اصلی کے برعکس (نوراللغات)۔ ٣ - [ فلسفہ ]  جو قائم بالذات تو نہ ہو مگر خارج سے آکر کسی شے کو لاحق ہو گئی ہو۔ (تاریخ جمالیات، 339:1)

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عارض' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبتی لگانے سے 'عارضی' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غیر مستقل، چند روزہ، وقتی، اتفاقی۔ "مجھے مہمان جان کر میری رجعت پسندی سے عارضی سمجھوتہ کر لیا تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ١٣ )

اصل لفظ: عرض