عارف

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پہچاننے والا، جاننے والا، واقف۔ "نماز کے اوقات کا پورا اور کامل عارف ہو۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١٣٣:١ ) ٢ - ولی، صوفی، خدا شناس، وہ شخص جس کو اللہ تعالٰی نے اپنی ذات اور صفات اور اسماء اور افعال کا بینا کیا ہو۔ "عارف وہ ہے کہ جب حق تعالٰی اسرارِ نہائی سے گفتگو کرتا تو وہ خاموش رہتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٥٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پہچاننے والا، جاننے والا، واقف۔ "نماز کے اوقات کا پورا اور کامل عارف ہو۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١٣٣:١ ) ٢ - ولی، صوفی، خدا شناس، وہ شخص جس کو اللہ تعالٰی نے اپنی ذات اور صفات اور اسماء اور افعال کا بینا کیا ہو۔ "عارف وہ ہے کہ جب حق تعالٰی اسرارِ نہائی سے گفتگو کرتا تو وہ خاموش رہتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٥٦ )

اصل لفظ: عرف
جنس: مذکر