عاشق
معنی
١ - عشق کرنے والا، فریفتہ، شیدا۔ "غم میں ڈوب کر موزوں طبیعت والے نامراد عاشق نے . شاہکار تصنیف کیا۔" ( ١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ١١ ) ٢ - بہت پسند کرنے والا، دل سے قدر کرنے والا، قدردان۔ جب تک بہار رہتی ہے رہتا ہے مست تو عاشق ہیں میر ہم تو تری عقل و ہوش کے ( ١٨١٠ء، میر (نوراللغات) ) ٣ - [ تصوف ] عشق حقیقی میں غرق، جس کو خودی کا خیال نہ ہو، عارفِ کامل۔ "جو شخص گم کردہ قلب نہ ہو عاشق نہ ہو گا اس لئے کہ جو شخص دل سے خبر رکھے گا یا دل دل رکھے وہ عاشق نہیں۔" ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١٧٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٥٠٣ء "نوسرہار (اردو ادب)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عشق کرنے والا، فریفتہ، شیدا۔ "غم میں ڈوب کر موزوں طبیعت والے نامراد عاشق نے . شاہکار تصنیف کیا۔" ( ١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ١١ ) ٣ - [ تصوف ] عشق حقیقی میں غرق، جس کو خودی کا خیال نہ ہو، عارفِ کامل۔ "جو شخص گم کردہ قلب نہ ہو عاشق نہ ہو گا اس لئے کہ جو شخص دل سے خبر رکھے گا یا دل دل رکھے وہ عاشق نہیں۔" ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١٧٧ )