عاشقی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عشق ہونا، محبت، فریفتگی، دلدادگی، شیفتگی۔ "جگدیش چندر . پاؤ بھر مٹھائی کا نذرانہ دے کر رسم عاشقی نبھا گیا۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٢٨ ) ٢ - حسن پرستی، عاشق مزاجی؛ عاشق کی کیفیت یا حالت۔ (پلیٹس) ٣ - [ تصوف ]  حبِ مفرط، مرتبۂ وحدت۔  زنداں ہے خانوادہ طریق حبیب کا یہ عاشقی کا سلسلہ ہے بیڑیاں نہیں      ( ١٨٩٦ء، تجلیاتِ عشق، ١٧٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عاشق' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'عاشقی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عشق ہونا، محبت، فریفتگی، دلدادگی، شیفتگی۔ "جگدیش چندر . پاؤ بھر مٹھائی کا نذرانہ دے کر رسم عاشقی نبھا گیا۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٢٨ )

اصل لفظ: عشق
جنس: مؤنث