عاصم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - حفاظت کرنے والا، گناہوں سے بچانے والا، خود کو گناہ سے باز رکھنے والا۔ "ان کے آگے کی زمینیں ہماری جانب اسلامی علاقہ میں ہیں ان میں سے ہر مقام عاصم کہلاتا ہے اس لیے کہ وہ سرحد کی حفاظت کرتا ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، کتاب الخراج و صنعۃ الکتابت، ٨٩ ) ٢ - [ مجازا ]  پارسا، بے گناہ۔  صفت ہے عاصم و معصوم و معتصم جس کی جو محتشم کہ ہے تمثال اعتصام و عصم      ( ١٩٦٦ء، منحمنا، ٢٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حفاظت کرنے والا، گناہوں سے بچانے والا، خود کو گناہ سے باز رکھنے والا۔ "ان کے آگے کی زمینیں ہماری جانب اسلامی علاقہ میں ہیں ان میں سے ہر مقام عاصم کہلاتا ہے اس لیے کہ وہ سرحد کی حفاظت کرتا ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، کتاب الخراج و صنعۃ الکتابت، ٨٩ )

اصل لفظ: عصم
جنس: مذکر