عافیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سلامتی، تحفظ، بچاؤ، آرام، سکون۔ "ملک کی عافیت اور سالمیت حقیقی خطرے سے دوچار ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ١١٧ ) ٢ - نیکی، خیریت، بھلائی۔  میں چپ رہا کہ اسی میں تھی عافیت جاں کی کوئی تو میری طرح تھا جو دار پر بھی گیا      ( ١٩٧٨٧، جاناں جاناں، ١٦١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سلامتی، تحفظ، بچاؤ، آرام، سکون۔ "ملک کی عافیت اور سالمیت حقیقی خطرے سے دوچار ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ١١٧ )

اصل لفظ: عفا
جنس: مؤنث