عاق
معنی
١ - نافرمان، سرکش، عاصی، ماں باپ یا استاد کا نافرمان۔ "پہلی بات یہ ہے کہ سید صاحب پہلے پیدائشی عاق نہیں تھے۔" ( ١٩٨٢ء، رو داد چمن، ٨٧ ) ٢ - وہ اولاد جسے ماں باپ نافرمان قرار دے کر حقوقِ وراثت سے محروم کر دیں۔ "ہمیں ہمارے سوتیلے باپوں نے عاق کر رکھا ہے۔" ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ١٣٩ ) ٣ - ترک کیا ہوا، مسترد، متروک (لفظ وغیرہ)۔ "متروک لفظ اور عاق کئے ہوئے لہجے بلا تکلف برتنے لگے۔" ( ١٩٦٠ء، علامتوں کا زوال، ٢٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب کا مصدر ہے اردو میں بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٦٣ء کو "مولانا عبدی (پنجاب میں اردو)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نافرمان، سرکش، عاصی، ماں باپ یا استاد کا نافرمان۔ "پہلی بات یہ ہے کہ سید صاحب پہلے پیدائشی عاق نہیں تھے۔" ( ١٩٨٢ء، رو داد چمن، ٨٧ ) ٢ - وہ اولاد جسے ماں باپ نافرمان قرار دے کر حقوقِ وراثت سے محروم کر دیں۔ "ہمیں ہمارے سوتیلے باپوں نے عاق کر رکھا ہے۔" ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ١٣٩ ) ٣ - ترک کیا ہوا، مسترد، متروک (لفظ وغیرہ)۔ "متروک لفظ اور عاق کئے ہوئے لہجے بلا تکلف برتنے لگے۔" ( ١٩٦٠ء، علامتوں کا زوال، ٢٨ )