عاقب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پیچھے آنے والا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام۔  حاشر و عاقب نصیح و ناصح صلی اللہ علیہ وسلم      ( ١٩٧٦ء، حمطایا، ١٠٠ ) ٢ - سردار کا قائم مقام، جانشین۔ "آبادی تمام تر عیسائی تھی اور تین سرداروں کے زیر حکم تھی ایک عاقب کہلاتا تھا، جس کی حیثیت امیر قوم کی تھی۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالم، ٧٠٨:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیدات ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سردار کا قائم مقام، جانشین۔ "آبادی تمام تر عیسائی تھی اور تین سرداروں کے زیر حکم تھی ایک عاقب کہلاتا تھا، جس کی حیثیت امیر قوم کی تھی۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالم، ٧٠٨:١ )

اصل لفظ: عقب
جنس: مذکر