عاقبت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (کسی فعل کا) نتیجہ، انجام۔ "پانچ نمازیں اور تیس روزے فرض کر دئے گئے ہیں . تاکہ عاقبت کی تاریک منزل تمہارے لیے راہِ روشن بن جائے۔"      ( ١٩٧٨ء، چاربتیہ، ٦٩ ) ٢ - آخرت، عقبی، اگلا جہاں، قیامت (دنیا کے مقابلے میں)۔ "مسلمانوں کو پہلے دنیا کو فکر کرنی چاہیے عاقبت اس کے ساتھ سدھر جائے گی۔"      ( ١٩٨٥ء، مولانا ظفر عالی خان بحیثیت صحافی، ٦٦ ) ٣ - قیامت کا دن۔ "اب عاقبت میں اپنے باوقار شوہر کے ساتھ کسی شرمندگی کے بغیر آنکھیں چار کرسکوں گی۔"      ( ١٩٨٥ء، آتش چنار (پیش گفتار)، ث ) ١ - آخر کار، انجام کار، بالآخر۔  عاقبت کثرتِ عصیاں سے مرے گبھرا کر رہ گیا کاتب اعمال کو لکھنا باقی      ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ١٩٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور متعلق فعل مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیدات ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی فعل کا) نتیجہ، انجام۔ "پانچ نمازیں اور تیس روزے فرض کر دئے گئے ہیں . تاکہ عاقبت کی تاریک منزل تمہارے لیے راہِ روشن بن جائے۔"      ( ١٩٧٨ء، چاربتیہ، ٦٩ ) ٢ - آخرت، عقبی، اگلا جہاں، قیامت (دنیا کے مقابلے میں)۔ "مسلمانوں کو پہلے دنیا کو فکر کرنی چاہیے عاقبت اس کے ساتھ سدھر جائے گی۔"      ( ١٩٨٥ء، مولانا ظفر عالی خان بحیثیت صحافی، ٦٦ ) ٣ - قیامت کا دن۔ "اب عاقبت میں اپنے باوقار شوہر کے ساتھ کسی شرمندگی کے بغیر آنکھیں چار کرسکوں گی۔"      ( ١٩٨٥ء، آتش چنار (پیش گفتار)، ث )

اصل لفظ: عقب
جنس: مذکر