عاملیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عمل دخل، کارگزاری، کارکردگی، سر گرمی۔ "اس میکانیت میں پیپٹائیڈ کے ذریعے حیاتی تالیف کا انحصار اے ٹی پی سے ایمینو ترشوں کے کاربوکسل گروہ کی عاملیت بڑھانے پر ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، بنیادی فرد حیاتیات، ٣٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عامل' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت و صفت لگانے سے 'عاملی' بنا اور اس کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'عاملیّت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٤٤ء کو "مخزن علوم و فنون" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عمل دخل، کارگزاری، کارکردگی، سر گرمی۔ "اس میکانیت میں پیپٹائیڈ کے ذریعے حیاتی تالیف کا انحصار اے ٹی پی سے ایمینو ترشوں کے کاربوکسل گروہ کی عاملیت بڑھانے پر ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، بنیادی فرد حیاتیات، ٣٢٣ )

اصل لفظ: عمل
جنس: مؤنث