عامیت
معنی
١ - رائج یا عام ہونے کی کیفیت، مقبول عام ہونا، عوامی ہونا، سطحیت، عمومیت۔ "منظوم شرح . دوسرے مصرعہ میں استعمال ہوئے تاش کے پتے کی عامیت کی وجہ سے شعری تخلیق کے بلند رتبہ سے گر گئی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، تنقید و تحقیق، ٢٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'عامی' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'عامیّت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٩٨٧ء کو "تنقید و تحقیق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - رائج یا عام ہونے کی کیفیت، مقبول عام ہونا، عوامی ہونا، سطحیت، عمومیت۔ "منظوم شرح . دوسرے مصرعہ میں استعمال ہوئے تاش کے پتے کی عامیت کی وجہ سے شعری تخلیق کے بلند رتبہ سے گر گئی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، تنقید و تحقیق، ٢٤ )