عبیر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مشک، گلاب اور صندل وغیرہ سے تیار کیا ہوا سفوف جو کپڑوں پر چھڑکتے ہیں، ایک خوشبو دار مرکب، سفوف۔ "مختلف رنگوں کی پچکاریاں چلتیں اور جسے موقع ملتا دوسرے کے منہ پر عبیر اور گلال مل دیتا۔"      ( ١٩٨٨ء، افکار، کراچی، جولائی، ٢٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٠٩ء "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مشک، گلاب اور صندل وغیرہ سے تیار کیا ہوا سفوف جو کپڑوں پر چھڑکتے ہیں، ایک خوشبو دار مرکب، سفوف۔ "مختلف رنگوں کی پچکاریاں چلتیں اور جسے موقع ملتا دوسرے کے منہ پر عبیر اور گلال مل دیتا۔"      ( ١٩٨٨ء، افکار، کراچی، جولائی، ٢٥ )

اصل لفظ: عبر
جنس: مذکر