عتاب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سخت سست کہنا، ڈانٹنا ڈپٹنا، خفگی، ناراضی، غصہ، جھڑکنا، سخت کہنا؛ ملامت کرنا۔ "ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ عتاب کس لیے?"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٥٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سخت سست کہنا، ڈانٹنا ڈپٹنا، خفگی، ناراضی، غصہ، جھڑکنا، سخت کہنا؛ ملامت کرنا۔ "ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ عتاب کس لیے?"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٥٩ )

اصل لفظ: عتب
جنس: مذکر