عجب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - انوکھا، نرالا، خوب، عمدہ۔  چھپنے کا عجب ڈھنگ نکالا اس نے کیا کام کیا ہے بالا بالا اس نے      ( ١٩٥٥ء، رباعیاتِ امجد، ١٨:٣ ) ٢ - عجیب، افسوس ناک؛ بُرا۔  عجب اعتبار و بےاعتباری کے درمیان ہے زندگی میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے      ( ١٩٨٠ء، یہ چراغ ہے تو جلا رہے، ١٢٧ ) ٣ - دگرگوں، متغیر۔ "دیکھتے ہی اُن کا عجب حال ہو گیا۔"      ( ١٩٢٩ء، نوراللغات، ٤٩٠:٣ ) ٤ - دور، بعید۔ "اس بادشاہ کا آگرے سے بھی زیادہ اور عجب نہیں کہ فتح پور سکیری ہی کے برابر پسندیدہ مقام الہ آباد تھا۔"      ( ١٩٣٢ء، اسلامی فن تعمیر ہندوستان میں (ترجمہ)، ١٤٥ ) ١ - تعجب، حیرت۔  ہنس کے بولے پھر عجب کی کونسی یہ بات ہے قدرت حق سے فلک کا گنبد بے در بنا    ( ١٨٨٦ء، دیوان سخن، ٦١ ) ٢ - خاص بات جس میں حیرت نیز تعریف کا پہلو ہو، کیا تعجب ہے۔  کھولی گرہ جو غنچہ کی تُو نے تو کیا عجب یہ دل کھلے جو تج سے تو ہو اے صبا عجب    ( ١٧٩٨ء، میر سوز، دیوان، ١٠ ) ٣ - عجوبہ، حیرت انگیز۔ "بستی نظام الدین کے مانوس رستے میرے لیے عجب اور اجنبی بن جاتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٣٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - دگرگوں، متغیر۔ "دیکھتے ہی اُن کا عجب حال ہو گیا۔"      ( ١٩٢٩ء، نوراللغات، ٤٩٠:٣ ) ٤ - دور، بعید۔ "اس بادشاہ کا آگرے سے بھی زیادہ اور عجب نہیں کہ فتح پور سکیری ہی کے برابر پسندیدہ مقام الہ آباد تھا۔"      ( ١٩٣٢ء، اسلامی فن تعمیر ہندوستان میں (ترجمہ)، ١٤٥ ) ٣ - عجوبہ، حیرت انگیز۔ "بستی نظام الدین کے مانوس رستے میرے لیے عجب اور اجنبی بن جاتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٣٥ )

اصل لفظ: عجب