عجز

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ناتوانی، ناچاری، بے مقدوری، درماندگی؛ بے احتیاطی۔ "زبان و بیان کے معاملے میں عجزیا بے احتیاطی یا سہل انگاری کی وجہ سے فطری شاعر بھی تجربے کے صحیح اظہار سے قاصر رہتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن، ٢١٧ ) ٢ - منت و سماجت، گڑ گڑانا، معافی طلبی، درگزر کا طالب ہونا، عاجزی۔ "خدا کے سامنے عجز و الحاح نہایت گڑگڑا گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی چاہنا چاہیے۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٦٧ ) ٣ - انکسار، فروتنی، عاجزی۔  اذن حضوری کے بعد عجز و ادب سے ہو ملک الموت بار یاب محمدۖ      ( ١٩٧٦ء، حمطایا، ١١٠ ) ٤ - [ عروض ]  شعر کے دوسرے مصرے کا آخری رکن۔ "دوسرے مصرعے کے پہلے رکن کو ابتدا اور آخری رکن کو ضرب یا عجز کہتے ہیں اور بیچ کے جز یا اجزاء کو وہی حشو۔"      ( ١٩٣٩ء، میزانِ سخن، ٤١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ناتوانی، ناچاری، بے مقدوری، درماندگی؛ بے احتیاطی۔ "زبان و بیان کے معاملے میں عجزیا بے احتیاطی یا سہل انگاری کی وجہ سے فطری شاعر بھی تجربے کے صحیح اظہار سے قاصر رہتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن، ٢١٧ ) ٢ - منت و سماجت، گڑ گڑانا، معافی طلبی، درگزر کا طالب ہونا، عاجزی۔ "خدا کے سامنے عجز و الحاح نہایت گڑگڑا گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی چاہنا چاہیے۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٦٧ ) ٤ - [ عروض ]  شعر کے دوسرے مصرے کا آخری رکن۔ "دوسرے مصرعے کے پہلے رکن کو ابتدا اور آخری رکن کو ضرب یا عجز کہتے ہیں اور بیچ کے جز یا اجزاء کو وہی حشو۔"      ( ١٩٣٩ء، میزانِ سخن، ٤١ )

اصل لفظ: عجز
جنس: مذکر