عدیل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - نظیر، مانند، ہم رتبہ، ہم سر، برابر کا، ہم وزن۔  کون ہے آپ کا عدیل و مثیل پھر کسے فخر کائنات لکھوں      ( ١٩٨٤ء، ذکرِ خیرالانام، ٤٤ ) ٢ - انصاف کرنے والا، منصف، جج۔  لہو میں تر ہے مری زندگی کی دستاویز مرا عدیل مگر منتظر گواہ کا ہے      ( ١٩٨١ء، ناتمام، ١٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٨٠١ء کو "دیوان جوشش" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: عدل
جنس: مذکر