عذاب

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - تکلیف دینے والا، ایذا دینے والا۔  جنوں ہے جب سے مجھے شور ہے حسینوں میں ہمیں جلیل سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں      ( ١٩١٠ء، تاج سخن، ١١٢ ) ١ - (اللہ تعالٰی کی جانب سے) گناہ کی سزا، بد اعمالی کی یاداش (ثواب کا نقیض)۔ "آگ میں جلانا عذاب تھا جو اس مردے پر مسلط تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ١٥١ ) ٢ - دکھ، اذیت، تکلیف، رنج و غم۔ "آج کل آدمی اس نئی روشنی کی بدولت طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہے۔"      ( ١٩٠٥ء، سی پارۂ دل، ٤٧ ) ٣ - مصیبت، بلا، وبال، جنجال۔ "سیاسی حکومت . ایک بڑا عذاب تھی۔"      ( ١٩٨١ء، افکار و اذکار، ٨٣ ) ٤ - گناہ، پاپ، برائی۔  دل لے کے مجھے سے کہا تو ہی تو دے گیا تھا یعنی مرے ہی سر پر الٹے عذاب رکھنا      ( ١٧٨٦ء، میر حسن، دیوان، ٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (اللہ تعالٰی کی جانب سے) گناہ کی سزا، بد اعمالی کی یاداش (ثواب کا نقیض)۔ "آگ میں جلانا عذاب تھا جو اس مردے پر مسلط تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ١٥١ ) ٢ - دکھ، اذیت، تکلیف، رنج و غم۔ "آج کل آدمی اس نئی روشنی کی بدولت طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہے۔"      ( ١٩٠٥ء، سی پارۂ دل، ٤٧ ) ٣ - مصیبت، بلا، وبال، جنجال۔ "سیاسی حکومت . ایک بڑا عذاب تھی۔"      ( ١٩٨١ء، افکار و اذکار، ٨٣ )

اصل لفظ: عذب