عربی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عرب کا باشندہ، عرب، عرب قوم کا فرد۔ "یہ بات میں نے اپنی آنکھ سے نہیں دیکھی، پر عربیوں کی زبانی سنی۔"      ( ١٨٤٧ء، عجائبات فرنگ، ١٠٦ ) ٢ - عربی نسل کا گھوڑا۔ "خوشنما خاصے کے گھوڑے عربی، ترکی، کمیت لاکھوری . مرصعی کھڑے جھوم رہے ہیں۔"      ( ١٨٩٠ء، بوستان خیال، ٨:٦ ) ١ - عرب کی زبان۔ "عربی کی ایک مثل کا مطلب ہے، عوام تو اپنے، امیروں کی نقل کرتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٧١ ) ١ - عرب سے منسوب، عرب کا۔ "عرب قوم سے وہ لوگ مراد ہیں جو شہروں میں رہتے ہوں، اس سے اسم نسبت عربی بنے گا۔"      ( ١٩٦٦ء، بلوغ الارب (ترجمہ)، ٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عرب' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'عربی' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیدات ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عرب کا باشندہ، عرب، عرب قوم کا فرد۔ "یہ بات میں نے اپنی آنکھ سے نہیں دیکھی، پر عربیوں کی زبانی سنی۔"      ( ١٨٤٧ء، عجائبات فرنگ، ١٠٦ ) ٢ - عربی نسل کا گھوڑا۔ "خوشنما خاصے کے گھوڑے عربی، ترکی، کمیت لاکھوری . مرصعی کھڑے جھوم رہے ہیں۔"      ( ١٨٩٠ء، بوستان خیال، ٨:٦ ) ١ - عرب کی زبان۔ "عربی کی ایک مثل کا مطلب ہے، عوام تو اپنے، امیروں کی نقل کرتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٧١ ) ١ - عرب سے منسوب، عرب کا۔ "عرب قوم سے وہ لوگ مراد ہیں جو شہروں میں رہتے ہوں، اس سے اسم نسبت عربی بنے گا۔"      ( ١٩٦٦ء، بلوغ الارب (ترجمہ)، ٢٣ )

اصل لفظ: عرب
جنس: مذکر