عرصہ

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - مدت، زمانہ، دور۔ "کچھ عرصے بعد یہ کہانی "نیا دور" میں شائع ہوئی۔"    ( ١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے نیند سے، ٨ ) ٢ - لمحہ، ساعت، منٹ۔ "چند عرصہ خوب پکاؤ۔"    ( ١٩٣٠ء، جامع الفنون، ٩:٢ ) ٣ - تاخیر، درنگ، دیر، توقف۔  سینے میں دل تڑپتا ہے عرصہ نہ اب کرو یا آپ آؤ یا ہمیں بیٹا طلب کرو      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ١٦٦:٥ ) ٤ - اثنا، وقفہ، دوران۔ "اسی عرصہ میں پانی کی ایک موج آئی اور اس نے حضرت نوحؑ کی نگاہوں سے کنعان کو اوجھل کر دیا۔"      ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٦ ) ٥ - میدان۔  ہر جگہ جنگ ہر جگہ ہے نزاع عرصہ کار زار ہے دنیا      ( ١٨٨٨ء، صنم خانۂ عشق، ٤٣ ) ٦ - وسعت مکانی، پھیلاؤ، کشادگی۔  ایک بھی حرف نہیں عرصہ گویائی میں آپ کی شان کے شایانِ رسولِ عربی      ( ١٩٧٩ء، دریا آخر دریا ہے، ٢٦ ) ٨ - مسافت، فاصلہ، دوری نیز سفر۔ "ملک بیگانہ ہے اور عرصہ دور کا ہے۔"      ( ١٨٨٤ء، قصص ہند، ١٣:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے دخیل اسم جامد ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مدت، زمانہ، دور۔ "کچھ عرصے بعد یہ کہانی "نیا دور" میں شائع ہوئی۔"    ( ١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے نیند سے، ٨ ) ٢ - لمحہ، ساعت، منٹ۔ "چند عرصہ خوب پکاؤ۔"    ( ١٩٣٠ء، جامع الفنون، ٩:٢ ) ٤ - اثنا، وقفہ، دوران۔ "اسی عرصہ میں پانی کی ایک موج آئی اور اس نے حضرت نوحؑ کی نگاہوں سے کنعان کو اوجھل کر دیا۔"      ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٦ ) ٨ - مسافت، فاصلہ، دوری نیز سفر۔ "ملک بیگانہ ہے اور عرصہ دور کا ہے۔"      ( ١٨٨٤ء، قصص ہند، ١٣:٢ )