عروسی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شادی، نکاح۔  عہد شباب کیا ہے عروسی کی ایک رات سب شام کا سنگار سحر تک اوجڑ گیا      ( ١٩٢٦ء، فغان آرزو، ٥٠ ) ١ - عروس (دلہن) سے منسوب، دلہن کا، شادی کا۔ "اس لڑکی کے عروسی کپڑوں میں اور جسم میں بسی ہوئی عطر حنا کی بو۔"      ( ١٩٧٣ء، ممتاز شیریں، منٹونوری نہ ناری، ١٢٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عروس' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'عروسی' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عروس (دلہن) سے منسوب، دلہن کا، شادی کا۔ "اس لڑکی کے عروسی کپڑوں میں اور جسم میں بسی ہوئی عطر حنا کی بو۔"      ( ١٩٧٣ء، ممتاز شیریں، منٹونوری نہ ناری، ١٢٧ )

اصل لفظ: عرس
جنس: مؤنث