عروض
معنی
١ - اوزانِ شعر کو جانچنے کا علم، وہ علم جس میں شعر کے اوزان بحور، زحافات کے اصول بیان کیے جاتے ہیں۔ "ایاز نے . حاجی محمود خادم کی عروض پر لکھی ہوئی کتاب کو اپنے دوسرے استاد مولوی عبدالغفور سے باضابطہ پڑھا۔" ( ١٩٧٩ء، شیخ ایاز، شخص اور شاعر، ١٦ ) ٢ - مصرعِ اول کے آخری رکن کا نام۔ "پہلے مصرع کے پہلے رکن کو صدر یا مطلع اور آخری رکن عروض کہتے ہیں۔" ( ١٩٣٩ء، میزان سخن، ٤١ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٨٢ء کو "ریاضِ صابر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اوزانِ شعر کو جانچنے کا علم، وہ علم جس میں شعر کے اوزان بحور، زحافات کے اصول بیان کیے جاتے ہیں۔ "ایاز نے . حاجی محمود خادم کی عروض پر لکھی ہوئی کتاب کو اپنے دوسرے استاد مولوی عبدالغفور سے باضابطہ پڑھا۔" ( ١٩٧٩ء، شیخ ایاز، شخص اور شاعر، ١٦ ) ٢ - مصرعِ اول کے آخری رکن کا نام۔ "پہلے مصرع کے پہلے رکن کو صدر یا مطلع اور آخری رکن عروض کہتے ہیں۔" ( ١٩٣٩ء، میزان سخن، ٤١ )