عریانی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - برہنگی، ننگا پن۔  دن کی عریانی میں بے خوابی کے لمحوں کی تھکن پھر تعلق میں انہی زخموں کا احساسِ گراں      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٣٧ ) ٢ - [ مجازا ]  تحریر میں جنسی معاملات کا کھلا اظہار و بیاں، فحش نگاری، جنسی جذبات کو بھڑکانے والی تحریر۔ "اگر عریانی بلند مقصد کی خاطر نہ ہو بلکہ خود مدعا بن جائے تو یہ قابل اعتراض ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عریان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'عریانی' بنا۔ اردو میں اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  تحریر میں جنسی معاملات کا کھلا اظہار و بیاں، فحش نگاری، جنسی جذبات کو بھڑکانے والی تحریر۔ "اگر عریانی بلند مقصد کی خاطر نہ ہو بلکہ خود مدعا بن جائے تو یہ قابل اعتراض ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٣ )

اصل لفظ: عُرْیاں
جنس: مؤنث