عریاں

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بے لباس، بے پردہ، برہنہ، ننگا؛ کھلا ہوا؛ (مجازاً) ظاہر۔ "اسے بھی تمام کپڑوں حتٰی کہ زیوروں تک سے محروم کر کے بالکل عریاں کر دیا گیا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ٤٦٧:١ ) ٢ - [ مجازا ]  فحش، شرمناک۔ "بعض اوقات بدلتے ہوئے معاشرتی ماحول کے باعث ایک تحریر کو جو پہلے عریاں نہیں سمجھی جاتی تھی بعد میں عریاں سمجھا جانے لگتا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٨٢ء کو "رضوان شاہ و روح افزا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے لباس، بے پردہ، برہنہ، ننگا؛ کھلا ہوا؛ (مجازاً) ظاہر۔ "اسے بھی تمام کپڑوں حتٰی کہ زیوروں تک سے محروم کر کے بالکل عریاں کر دیا گیا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ٤٦٧:١ ) ٢ - [ مجازا ]  فحش، شرمناک۔ "بعض اوقات بدلتے ہوئے معاشرتی ماحول کے باعث ایک تحریر کو جو پہلے عریاں نہیں سمجھی جاتی تھی بعد میں عریاں سمجھا جانے لگتا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٢٢ )