عریض

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وسعت، پہنائی؛ عرصہ۔  وہ سیدی ہے عریض شرق پر صبحِ صادق جس کو کہتے ہیں شبر      ( ١٨٩١ء، کنزالاخرۃ، ٣٩ ) ١ - چوڑا، بڑا، پہناور۔ "محترم ناقدین، کہانیوں پر اظہار خیال کر کے مجھے افسانوی ادب کے عریض و عمیق سمندر میں مزید غوطہ خوری کی ترغیب دیں گے۔"      ( ١٩٨٦ء، حصار، ١٩٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت اور شاذ اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٨٧ء کو "سخندان فارس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چوڑا، بڑا، پہناور۔ "محترم ناقدین، کہانیوں پر اظہار خیال کر کے مجھے افسانوی ادب کے عریض و عمیق سمندر میں مزید غوطہ خوری کی ترغیب دیں گے۔"      ( ١٩٨٦ء، حصار، ١٩٨ )

اصل لفظ: عرض
جنس: مذکر