عزت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - آبرو، حُرمت، بڑائی، عظمت، شان، شرف، توقیر۔ "ایسی قوموں کی عزت و حرمت اور آزادی و استقلال کے ایام بھی گردش دوراں کی زد میں آکر گنے چنے رہ جاتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، پاکستان میں نفاذ اردو کی داستان، ١ ) ٢ - غلبہ، قوت (شاذ)۔ "سب سے آخر میں صفات ربوبیت یعنی فخر اور تعلی اور عزت و کبریا کی خواہش اور سب لوگوں پر حاوی ہو جانے کا قصد ابھرتا ہے۔"      ( ١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ١٩:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیدات ہمدانی" کے قلمی نسخہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آبرو، حُرمت، بڑائی، عظمت، شان، شرف، توقیر۔ "ایسی قوموں کی عزت و حرمت اور آزادی و استقلال کے ایام بھی گردش دوراں کی زد میں آکر گنے چنے رہ جاتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، پاکستان میں نفاذ اردو کی داستان، ١ ) ٢ - غلبہ، قوت (شاذ)۔ "سب سے آخر میں صفات ربوبیت یعنی فخر اور تعلی اور عزت و کبریا کی خواہش اور سب لوگوں پر حاوی ہو جانے کا قصد ابھرتا ہے۔"      ( ١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ١٩:٤ )

اصل لفظ: عزز