عشا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رات کی اندھیری، تاریکِ شب۔ (فرہنگ آصفیہ) ٢ - سوتے وقت کی نماز، رات کی نماز جو مغرب کی نماز کے بعد پڑھی جاتی ہے، نمازِ خفتن۔ "اب وہ عشاء کی نماز کے ساتھ سارے دن کی قضا نمازیں ادا کیا کرتا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٥٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٦٩ء کو "آخر گشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سوتے وقت کی نماز، رات کی نماز جو مغرب کی نماز کے بعد پڑھی جاتی ہے، نمازِ خفتن۔ "اب وہ عشاء کی نماز کے ساتھ سارے دن کی قضا نمازیں ادا کیا کرتا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٥٣ )

اصل لفظ: عشا
جنس: مؤنث