عشائیہ
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - رات کا کھانا، ڈنر۔ "محفوظ علی صاحب نے اپنے گھر پر عشائیہ دیا تھا۔" ( ١٩٨٣ء، خطبات محمود، ٢٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'عشا' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ صفت اور 'یہ' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'عشائیہ' بنا۔ اس میں 'ی' ہمزہ سے بدل کر لگائی گئی ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٦٦ء کو "جنگ کراچی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - رات کا کھانا، ڈنر۔ "محفوظ علی صاحب نے اپنے گھر پر عشائیہ دیا تھا۔" ( ١٩٨٣ء، خطبات محمود، ٢٨ )
اصل لفظ: عشا
جنس: مذکر