عشقیہ

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - عشق اور معاملاتِ عشق سے تعلق رکھنے والا، عاشقانہ۔ "آنے والے شعر پر گہرے اثرات کے باوجود اس عشقیہ رنگ کی کوئی پیروی نہ کرسکا۔"      ( ١٩٨٠ء، محمد تقی میر، ٣٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عشق' کے ساتھ 'یہ' بطور لاحقہ نسبت لگانے سے 'عشقیہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٦٣ء کو "انشائے بہار بیخراں" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عشق اور معاملاتِ عشق سے تعلق رکھنے والا، عاشقانہ۔ "آنے والے شعر پر گہرے اثرات کے باوجود اس عشقیہ رنگ کی کوئی پیروی نہ کرسکا۔"      ( ١٩٨٠ء، محمد تقی میر، ٣٥ )

اصل لفظ: عشق