عشوہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ناز و ادا، غمزہ، کرشمہ۔ "سراپے میں ناز و انداز و عشوہ سے زیادہ ایک عجیب النوع رومانوی بھاری بھر کم پن کا طور جھلک رہا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢٤٣ ) ٢ - مشتبہ بات کرنا؛ (مجازاً) فریب۔ "راہ معرفت باوجود یکہ بہت دور دراز ہے مجھکو کوتاہی کا عشوہ یعنی فریب دیتی ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، یادگار غالب، ٢٥٠ ) ٣ - [ تصوف ]  تجلی جمالی کو کہتے ہیں۔ (مصباح التعرف، 176)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی میں اصل لفظ 'عشوۃ' ہے۔ اردو میں تائے مربوطہ کو 'ہ' میں بدل دیا گیا ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ناز و ادا، غمزہ، کرشمہ۔ "سراپے میں ناز و انداز و عشوہ سے زیادہ ایک عجیب النوع رومانوی بھاری بھر کم پن کا طور جھلک رہا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢٤٣ ) ٢ - مشتبہ بات کرنا؛ (مجازاً) فریب۔ "راہ معرفت باوجود یکہ بہت دور دراز ہے مجھکو کوتاہی کا عشوہ یعنی فریب دیتی ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، یادگار غالب، ٢٥٠ )

اصل لفظ: عشو
جنس: مذکر