عصا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہاتھ کی لکڑی، چوبِ دستی، لاٹھی۔  زندگی اندھے مسافر کا عصا اور زمانہ تنگ راہوں کی زمیں      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٩٧ ) ٢ - [ مجازا ]  سہارا، ٹیک۔  علاوہ اس کے عارض ضعف پیری عصا ہے بس خدا کی دستگیری      ( ١٨٧٠ء، دیوان اسیر، ٤٩٠:٣ ) ٣ - گولف کھیلنے کا ڈنڈا۔ "پوری جسامت کی معیاری ٹائپ مشین اور پیانوں کے پوری جسامت کے کلیدی تختے پر اور گاف کے حقیقی عصاؤں سے مشق کرنی چاہیے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ١٨٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - گولف کھیلنے کا ڈنڈا۔ "پوری جسامت کی معیاری ٹائپ مشین اور پیانوں کے پوری جسامت کے کلیدی تختے پر اور گاف کے حقیقی عصاؤں سے مشق کرنی چاہیے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ١٨٤ )

اصل لفظ: عصی
جنس: مذکر