عصر
معنی
١ - زمانہ، دور، عہد۔ "وہ اپنے عصر کے حالات سے واقف ہیں اور اپنے دور کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں۔" ( ١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٥٢ ) ٢ - دن کا اخیر حصہ، سر پہر۔ "عصر میں کچھ وقت رہتا تھا، شہر ابھی سنسان پڑا تھا۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٢٠٢ ) ٣ - نمازِ عصر، ظہر اور مغرب کے درمیان کی نماز۔ حضرت عمر کو ایک مرتبہ عصر کی نماز باجماعت نہ ملی، وہ سخت متاسف ہوئے۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ١٤٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے ہپلے ١٧٥٤ء کو "ریاضِ غوثیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - زمانہ، دور، عہد۔ "وہ اپنے عصر کے حالات سے واقف ہیں اور اپنے دور کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں۔" ( ١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٥٢ ) ٢ - دن کا اخیر حصہ، سر پہر۔ "عصر میں کچھ وقت رہتا تھا، شہر ابھی سنسان پڑا تھا۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٢٠٢ ) ٣ - نمازِ عصر، ظہر اور مغرب کے درمیان کی نماز۔ حضرت عمر کو ایک مرتبہ عصر کی نماز باجماعت نہ ملی، وہ سخت متاسف ہوئے۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ١٤٢ )