عقیدت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کسی بات کو درست اور حق جان کر اس پر دل جمانا، دل کا بھروسا، اعتقاد، ارادت، خلوص و محبت۔ "صاحبِ علم اور صوفیائے کرام سے عقیدت رکھنے والوں کو اس انجمن کا رکن بنایا جاتا تھا۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور ١٨٣٨ء کو "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی بات کو درست اور حق جان کر اس پر دل جمانا، دل کا بھروسا، اعتقاد، ارادت، خلوص و محبت۔ "صاحبِ علم اور صوفیائے کرام سے عقیدت رکھنے والوں کو اس انجمن کا رکن بنایا جاتا تھا۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٣٧ )

اصل لفظ: عقد
جنس: مؤنث