عقیدہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ایمان، وہ دلی بھروسا یا اعتبار جو کسی امر یا شخص کو درست یا حق سمجھنے سے پیدا ہو، یقین، اعتقاد۔ "اب میرا عقیدہ یہ ہے کہ اردو کی (گراں مایگی) صرف شعرو ادب اور اس مخصوص درباری تہذیب تک ہے جو ہمارے لیے ورثہ میں چھوڑ گئے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٥٥ ) ٢ - مذہبی اصول پر اعتقاد، مذہبی یقین، ایمان نیز وہ مذہبی اصول جن پر ایمان لانا ضروری ہو۔ "بحیثیت فنکار (فن کار) میں اپنے عقیدے، تاریخ، تہذیب، معاشرت اور ماحول کا تھوڑا بہت شعور ضرور رکھتا ہوں۔"      ( ١٩٨٢ء، برشِ قلم، ٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٧٩ء کو "دیوان شاہ سلطان ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایمان، وہ دلی بھروسا یا اعتبار جو کسی امر یا شخص کو درست یا حق سمجھنے سے پیدا ہو، یقین، اعتقاد۔ "اب میرا عقیدہ یہ ہے کہ اردو کی (گراں مایگی) صرف شعرو ادب اور اس مخصوص درباری تہذیب تک ہے جو ہمارے لیے ورثہ میں چھوڑ گئے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٥٥ ) ٢ - مذہبی اصول پر اعتقاد، مذہبی یقین، ایمان نیز وہ مذہبی اصول جن پر ایمان لانا ضروری ہو۔ "بحیثیت فنکار (فن کار) میں اپنے عقیدے، تاریخ، تہذیب، معاشرت اور ماحول کا تھوڑا بہت شعور ضرور رکھتا ہوں۔"      ( ١٩٨٢ء، برشِ قلم، ٩ )

اصل لفظ: عقد
جنس: مذکر