عقیل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - عقلمند، زیرک، دانا، ہوشیار۔ "اس کے لیے کسی نئی عقیل و فہیم عورت کو جو نگراں ہو سکے، بہت مشکل ہو گیا تھا کہاں تلاش کیا جائے۔"      ( ١٩٨٣ء، دشتِ سوس، ٢٩٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٥٤ء کو "دیوان ذوق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقلمند، زیرک، دانا، ہوشیار۔ "اس کے لیے کسی نئی عقیل و فہیم عورت کو جو نگراں ہو سکے، بہت مشکل ہو گیا تھا کہاں تلاش کیا جائے۔"      ( ١٩٨٣ء، دشتِ سوس، ٢٩٧ )

اصل لفظ: عقل
جنس: مذکر