عملیات

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - جمع )

معنی

١ - [ سفلی ]  جادو ٹونے، دعا یا افسوں وغیرہ جو دفع آسیب وغیرہ مقاصد کے لیے کیا جائے۔ "گھوڑوں کے ردِ بلاکے تعویذ اور نظر بد سے بچے رہنے کے عملیات ان کے علم میں تھے۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٢٣ ) ٢ - کیے جانے والے کام، معمولات۔ "دماغ کی عملیات کو بھی منضبط کیے رہتے ہیں۔"      ( ١٩٦٦ء، افکار حاضرہ، ٧١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عمل' کی جمع 'عملیات' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٦٠ء کو "طلسم ہوش ربا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ سفلی ]  جادو ٹونے، دعا یا افسوں وغیرہ جو دفع آسیب وغیرہ مقاصد کے لیے کیا جائے۔ "گھوڑوں کے ردِ بلاکے تعویذ اور نظر بد سے بچے رہنے کے عملیات ان کے علم میں تھے۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٢٣ ) ٢ - کیے جانے والے کام، معمولات۔ "دماغ کی عملیات کو بھی منضبط کیے رہتے ہیں۔"      ( ١٩٦٦ء، افکار حاضرہ، ٧١ )

اصل لفظ: عمل