عمومیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عام ہونے کی کیفیت یا حالت، ہم گیر ہونے کی صورت حال وغیرہ۔ "جمہوریت و عمومیت کی روح کے ساتھ ایسے تلقب جمع نہیں ہو سکتے۔"      ( ١٩٨٨ء، اردو کی ترقی میں مولانا ابوالکلام کا حصہ، ٥٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عمومی' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'عمومیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٩٠٨ء کو "اساس الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عام ہونے کی کیفیت یا حالت، ہم گیر ہونے کی صورت حال وغیرہ۔ "جمہوریت و عمومیت کی روح کے ساتھ ایسے تلقب جمع نہیں ہو سکتے۔"      ( ١٩٨٨ء، اردو کی ترقی میں مولانا ابوالکلام کا حصہ، ٥٦ )

اصل لفظ: عمم
جنس: مؤنث