عنابی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - عناب سے منسوب، عناب کے رنگ کا، عناب کی مانند سرخ، گہرا سرخ۔ "ان میں ایک ترتیب و امتزاج رنگ کا اندازہ ہوتا تھا گلابی . مونگیا، عنابی . اتنے رنگ تو یار ہیں۔"      ( ١٩٧٣ء، صدا کر چلے، ١٥ ) ٢ - ایک کبوتر جس کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے۔ "ہر قسم کے کبوتروں کے ڈھیروں پنجرے بھرے رہتے تھے . عنابی، کاسنی، بھورا، پٹیہ ہر رنگ کے . شیرازی گولے۔"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٤١ ) ٣ - ایک لعل جس کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے۔ "لعل کی بہت سی قسمیں ہیں قمری اور عنابی اور زرد اور خمیری۔"      ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٢٨٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عناب' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'عنابی' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عناب سے منسوب، عناب کے رنگ کا، عناب کی مانند سرخ، گہرا سرخ۔ "ان میں ایک ترتیب و امتزاج رنگ کا اندازہ ہوتا تھا گلابی . مونگیا، عنابی . اتنے رنگ تو یار ہیں۔"      ( ١٩٧٣ء، صدا کر چلے، ١٥ ) ٢ - ایک کبوتر جس کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے۔ "ہر قسم کے کبوتروں کے ڈھیروں پنجرے بھرے رہتے تھے . عنابی، کاسنی، بھورا، پٹیہ ہر رنگ کے . شیرازی گولے۔"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٤١ ) ٣ - ایک لعل جس کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے۔ "لعل کی بہت سی قسمیں ہیں قمری اور عنابی اور زرد اور خمیری۔"      ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٢٨٧ )

اصل لفظ: عُنّاب