عناد

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - دشمنی، بیر، کینہ، مخالفت، سرکشی، کج روی، گمراہی۔ "اس دیباچے میں تمہاری زیادہ مدح سرائی نہیں کی گئی، مگر یقین جانو کہ اس میں کسی بے التفاقی یا عناد کو ذرا بھی دخل نہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، ن۔م۔ راشد، ایک مطالعۂ، ٥٩ ) ٢ - [ منطق ]  تناقض، ضد ہم دگر۔ "اگر دونوں جملوں میں ربط عناد کے ساتھ ہو تو شرطیہ منفصلہ کہتے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "مثنوی نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دشمنی، بیر، کینہ، مخالفت، سرکشی، کج روی، گمراہی۔ "اس دیباچے میں تمہاری زیادہ مدح سرائی نہیں کی گئی، مگر یقین جانو کہ اس میں کسی بے التفاقی یا عناد کو ذرا بھی دخل نہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، ن۔م۔ راشد، ایک مطالعۂ، ٥٩ ) ٢ - [ منطق ]  تناقض، ضد ہم دگر۔ "اگر دونوں جملوں میں ربط عناد کے ساتھ ہو تو شرطیہ منفصلہ کہتے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٣٧ )

جنس: مذکر